تعارف
کبھی کبھار زندگی میں ایک معمولی سا واقعہ ہماری پوری سوچ بدل دیتا ہے۔ نہ وہ واقعہ بہت بڑا ہوتا ہے، نہ ہی اس میں کوئی ڈرامہ ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپا ہوا پیغام اتنا گہرا ہوتا ہے کہ انسان کا دل، دماغ، اور روح سب کچھ لرز جاتے ہیں۔
یہ کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے — ایک حاجی صاحب، ایک زخمی کتا، اور ایک ایسا راز جو ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا نظام رزق کس طرح کام کرتا ہے۔
ڈرائنگ روم کا ماحول اور حاجی صاحب کی شخصیت
میں حاجی صاحب کے کشادہ، شاندار ڈرائنگ روم میں اُن سے ملاقات کے لیے بیٹھا تھا۔ چاروں طرف خوبصورت آرائش، قیمتی شو پیس، بڑا سا ٹی وی، اور آرام دہ صوفے۔ اُن کے خادم نے چائے پیش کی اور اطلاع دی کہ حاجی صاحب آنے والے ہیں۔
حاجی صاحب کا اصل نام محمد اشرف تھا۔ وہ کئی بار حج کر چکے تھے اور اسی نسبت سے لوگ انہیں "حاجی صاحب" کہتے تھے۔ ان کے ایک بیٹے سے میری شناسائی تھی جو میرا ہم جماعت رہا تھا — ایک مخلص اور خوش مزاج نوجوان۔
اللہ کی طرف رجوع اور دنیا سے کنارہ کشی
ایک ملاقات میں اس نے مجھے بتایا کہ حاجی صاحب نے اپنی تمام جائیداد اور کاروبار اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا ہے، اور اب باقی زندگی اللہ کے ذکر اور عبادت میں گزارنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کی اس روحانی تبدیلی پر خوشی کا اظہار کیا۔
مگر چند سال بعد دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ حاجی صاحب نے دوبارہ کاروبار شروع کر دیا ہے۔ میں حیران ہو گیا، کیونکہ میں سمجھا تھا کہ وہ اب دنیا سے
کنارہ کشی کر چکے ہیں
وہ واقعہ جس نے حاجی صاحب کی سوچ بدل دی
چند دن بعد، میں خود حاجی صاحب سے ملاقات کے لیے گیا اور یہ سوال کیا:
"آپ نے پہلے دنیا چھوڑ دی، پھر واپس کیوں آ گئے؟"
حاجی صاحب مسکرائے اور بولے:
"بیٹا! دونوں فیصلوں کے پیچھے ایک راز ہے۔"
پھر انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو ان کی زندگی کا نکتۂ تبدیلی بنا۔
"میں ایک دن اپنے گودام میں بیٹھا حساب کتاب کر رہا تھا۔ اچانک ایک زخمی کتا اپنی پچھلی ٹانگیں گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہوا۔ دل میں آیا کہ اسے بھگا دوں، مگر پھر ترس آیا۔ سوچا، اللہ کی مخلوق ہے، شاید پناہ کی تلاش میں آیا ہے۔
پھر ایک سوال ذہن میں آیا — کیا اللہ تعالیٰ اس کو رزق دے گا؟
میں نے فیصلہ کیا کہ خود کچھ نہیں دوں گا، بس دیکھوں گا کہ کیا ہوتا ہے۔
شام کو میں نے دیکھا کہ ایک اور کتا آیا اور منہ میں گوشت کا ٹکڑا لایا۔ اس نے زخمی کتے کو کھلایا اور چلا گیا۔
اگلے کئی دنوں تک یہی ہوتا رہا۔ زخمی کتے کے زخم بھر گئے، اور وہ چلنے کے قابل ہو گیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، 'سبحان اللہ! جب اللہ ایک کتے کا رزق بھی بند نہیں کرتا، تو میں کیوں ڈروں؟'
اسی دن میں نے اپنی ساری جائیداد بچوں کو دے دی اور اللہ کی عبادت میں لگ گیا ۔
دعا
یا اللہ! ہمیں بھی ایسا دل عطا فرما جو صرف لینے والا نہ ہو بلکہ دینے والا ہو۔ ہمیں زخمی کتے کی طرح توکل سکھا، اور دوسرے کتے کی طرح وسیلہ بننے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین



تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں